- The language used in drafting the petition for leave to appeal is unbecoming of a senior Advocate of Supreme Court — After all the decency and etiquettes demand that a due respect should be shown even to one’s opponents and particularly to the Judges of the superior judiciary whether they are in service or out of it — Petitioner ultimately tendered apology to be careful in such a sort of language which has been employed by the petitioner in drafting the petition cannot be allowed to be repeated in future — Indeed such a practice is highly undesirable and is to be deprecated — A warning is given to the petitioner that in future he would be careful while drafting his petitions in scandalous and contemptuous manner otherwise the law will take its own course. Mujahid Hussain Naqvi v. Director/Deputy Director Anti-corruption & 4 others 2001 SCR 272 (H)
- غیر عدالتی زبان کا استعمال ۔۔۔۔ ججز کے وقار کے خلاف۔۔۔سائل کو نوٹس۔۔۔ تحری وضاحت و تائیدی بیان حلفی۔۔۔سائل غیر مشروط معافی کا خواستگار۔۔۔۔ معافی قبول کرتے ہوئے کارروائی سے صرف نظر۔۔۔۔۔ جہاں تک مسئولان کا اعتراض نسبت توہین آمیز الفاظ از عرضی عنوانی” سردار افتخار احمد بنام چئیرمین آزاد جموں و کشمیر کونسل وغیرہ” کا تعلق ہے بادی النظر میں جو زبان استعمال کی گئی وہ عدالتی نکتہ نظر سے نامناسب ہے جس کی وضاحت کے لیے سائل کو نوٹس دیا گیا۔ قانونی طور پر اپیل میں اعتراض فیصلہ زیر اپیل پر ہو تا ہے، لکھنے والے جج پر نہیں۔ مندرجات عرضی استعجازت اپیل سے بظاہر لگتا ہے کہ سائل نے الفاظ کے انتخاب میں احتیاط سے کام نہیں لیا۔ سائل نے تحریری وضاحت باتئید بیان حلفی داخل کرتے ہوئےموقف لیا ہے کہ دانستہ الفاظ کا چناؤ ججز کے وقار کو مجروح کرنے کے لیے نہیں کیا گیا بلکہ عام فہم معانی میں استعمال کیے۔سائل نے الفاظ کے حذف کرنے اور غیر مشروط معافی کی بھی استدعا کی ہے۔حالات کے تناظر میں یہی قیاس کیا جاتا ہے کہ مذکور سائل سے کم فہمی اور نادانستگی کی بناء پر یہ سہو ہوا ہے۔اُسے تنبیہ کی جاتی ہے کہ مستقبل میں وکالت کی اچھی روایات کو مد نظر رکھتے ہوئے عدالتی کارروائی کے متعلقہ تحریر میں مہذب اور احسن الفاظ کا چناؤ کرے۔ مذکور سائل نے وضاحت کی تائید میں بیان حلفی بھی داخل کیا ہے اور اُس کی غیر مشروط معافی قبول کرتے ہوئے مزید کارروائی سے صرف نظر کیا جاتا ہے احمد نواز تنولی ایڈووکیٹ بنام چیئرمین آزاد جموں و کشمیر کونسل وغیرہ، (ڈ) 2016 SCR 960
- قابل گرفت زبان کا استعمال۔۔۔ استدعا جرمانہ۔۔۔عدالتی وسیع القلبی۔۔۔ مباداً عام افراد کی حوصلہ شکنی ہو۔۔۔لہذا ہرجانہ عائد کرنے سے گریز۔۔۔ اگرچہ کونسل مسئولان نے سائلان پر بھاری ہرجانہ عائد کرنے کی استدعا کی ہے، حالات و واقعات کے تناظر میں یہ استدعا بے جا نہ ہے۔ تاہم سائلان چونکہ وکلاء ہیں اور عدالتی نظام کا حصہ ہیں، عدالتوں نے ہمیشہ وسیع القلبی کا مظاہرہ کرتے ہوئے صرف نظر کا رویہ ہی اپنایا ہے۔ مزید برآں ہم یہ سمجھتے ہیں کہ ہرجانہ عائد کرنے سے عام افراد کے لیے یہ تاثر پیدا نہ ہو کہ حصول انصاف کے راستے مسدُود کیے جا رہے ہیں۔ اس تناظر میں باوجود قانونی جواز کے ہرجانہ عائد کرنے سے گریز کیا جاتا ہے۔ احمد نواز تنولی ایڈووکیٹ بنام چیئرمین آزاد جموں و کشمیر کونسل وغیرہ، (ذ) 2016 SCR 960
- خبث باطن ۔۔۔ مخصوص جج کے فیصلہ کے بعد۔۔۔کوئی طاقتور طبقہ افراد کی عدلیہ کو متنازعہ بنانے کی کوشش ۔۔۔ قانون شکنی ۔۔۔ عدلیہ پر حملہ نہ کہ عدلیہ کا تحفظ۔۔۔پروانہ اجراء استفسار جاری نہ ہو سکتا ہے۔۔۔۔ خصوصی حالات کے تناظر میں مسئول نمبر 7 کے فیصلہ صادر کرنے کے بعد ردعمل کو طور پر عرضی ہذا کی دائری دورس اثرات کی حامل ہے جس کے پس منظر میں خبث باطن واضع ہے۔جب کوئی جج مئوثر، طاقتور افراد، طبقات یا گروہ کے مفادات اور توقعات کے خلاف فیصلہ کرے اُس کو متنازعہ بنا دینا، قانون کی بالا دستی نہیں بلکہ قانون شکنی ہے اور یہ عدلیہ کا تحفظ نہیں بلکہ عدلیہ پر حملہ ہے۔ عدلیہ کا وجود فرائض کے اعتبار سے طاقتور طبقات، قانون شکن افرا اور گروہوں کی سرکوبی کے لیے ہے۔عدلیہ نے ھمیشہ طاقتور، قانون شکن سے کمزور اور مظلوم کا حق واپس دلا کر قانون کی عملداری قائم کرنا ہوتی ہے۔کمزور طبقات کی کوئی مئوثر زبان نہیں ہوتی کہ وہ عدلیہ کی پشت پر کھڑے ہوں اور نہ قانون کی عملداری پر عدلیہ کی تشہیر ہوتی ہے۔جس کے مقابلے میں طاقتور افراد، طبقات اور گرہوں کے مفادات عدلیہ کے وجود سے تکمیل پزیر نہیں ہوتے ایسے طاقتور افراد، طبقات اور گروہ مئوثر آواز رکھتے ہیں اور عدلیہ کو دباؤ میں لانے کے لیے ناجائز مقاصد، خبث باطن، مخصوص عزائم کی تکمیل کے لیے سازشیں کرنے کی کوشش کرتے ہیں تاہم عدلیہ کو بیدار رہتےہوئے ایسے عزائم کو ناکام بنانا ہوتا ہے اور اپنے فرائض انجام دیتے ہوئے قانون کی بالادستی کے لیے کردار ادا کرنا ہوتا ہے۔ ایسی عرضی ہا جو خبث باطن اور تاخیر سے دائر کی جائیں، ایسے حالات میں اُن میں محض سطحی جائزہ کی بنیاد پر پروانہ اجراء استفسار جاری نہیں کیا جا سکتا بلکہ اس طرزعمل کی بیخ کنی و تدارک سے آزادی عدلیہ و قانون کی بالادستی قائم ہو سکتی ہے۔ احمد نواز تنولی ایڈووکیٹ بنام چیئرمین آزاد جموں و کشمیر کونسل وغیرہ، (ر) 2016 SCR 960
error: Content is protected !!