1. The Advocates are officers of the Courts — Courts expect help from them to do justice — The role of Advocates upholds the dignity and purity of the Courts. Javed Iqbal and 5 others  v. Social Welfare Deptt. and 5 others 2004 SCR 435 (B)
  2. The etiquettes of the profession demand that once a matter is finally concluded by the apex Court in any case — The same matter could not be again put to trial through another party by the same Advocate — The Advocates who are the officers of the Court and as good as the Judges themselves, are expected to behave and act in the similar manner in seeking the indulgence of the Courts as they expect of Judges to do. Syed Amjad Ali v. Chaudhry Amir Afzal & 5 others 2006 SCR 153 (A) 1976 SC 713 and 1987 PSC 1326 rel. 
  3. شعبہ وکالت :اہمیت و کردار۔۔۔ بغرض فراہمی انصاف ۔۔۔۔ عدالتی نظام کا جزولاینفک ۔۔۔تاریخی کردار بغرض آزادی عدلیہ و قانون کی بالادستی ۔۔۔۔  یہاں پر ہم یہ بھی ریکارڈ پر لانا مناسب سمجھتے ہیں کہ وکلاء عدالتی نظام کا ایک جزو لاینفک ہیں اور ان کے بغیر انصاف کی فراہمی کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا۔ صدیوں پر محیط انسانی تجربہ اس کا شاہد ہے۔ آزاد کشمیر اور پاکستان کے وکلاء نے عدلیہ کی آزادی اور قانون کی بالادستی کے لیے تحریک چلا کر اقوام عالم میں قانون کی حکمرانی، عدلیہ کی آزادی اور خودمختاری کے لیے ایک سنہری باب رقم کیا۔اس جدوجہد نے سوچوں اور تاریخ کا دھارا بدل دیا۔ عدلیہ کے وقار میں عوام الناس میں بے پناہ اضافہ ہوا بالخصوص آزاد کشمیر میں وکلاء کا کردار عدلیہ کے تحفظ اور آزادی کے لیے بے مثال رہا۔ تاریخ شاہد ہے کہ آزاد کشمیر میں وکلاء نے غلط اور خلاف قانون سیاسی بنیاد پر ہونے والی خلاف میرٹ تقرریوں کو ہمیشہ چلینج کیا۔ عدلیہ نے قانون کے مغائر ہونے والی تقرریوں کے حامل افراد کو سبکدوش کیا جو بہت دشوار کام ہے۔ عموماً معاشرے میں یہ طرز عمل عام ہے کہ اپنے ہم نشینوں کا تحفظ کیا جائے جبکہ یہ اعزاز صرف عدلیہ کو حاصل ہے کہ اگر ساتھ بیٹھے ہوئے لوگوں کے خلاف بھی فیصلہ دینا پڑے تو کوئی ہچکچاہٹ محسوس نہیں کی جاتی اور بلا خوف فیصلے صادر کیے جاتے ہیں۔ احمد نواز تنولی ایڈووکیٹ بنام چیئرمین آزاد جموں و کشمیر کونسل وغیرہ، (ڑ) 2016 SCR 960  1993 SCR 131, 2012 SCR 213, 2014 SCR 1258 & PLD 2016 SC (AJK) 1) ref.
  4. کردار انجمن ھائے وکلاء ۔۔۔۔ وکلاء کی قربانیاں ۔۔۔۔ پیشہ وکلاء کی چھانٹی ۔۔۔۔ یہ بات بھی قابل توجہ ہے کہ وکلاء تحریک کے نتیجہ میں جو عزت اور وقار وکلاء و عدلیہ کو ملا مابعد اس عزت اور وقار کو مجروح کرنے کے واقعات بھی وقوع پزیر ہوئے جن میں عدلیہ کے افسران جلیس کے ساتھ ناروا رویہ اور پولیس اہلکاران پر حملوں جیسے واقعات بھی منظر عام آئے۔ تاہم انجمن ھا وکلاء نے ایسے معاملات کو حل کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ ابھی بھی حالات کا تقاضہ ہے کہ انجمن ھا وکلاء اپنے اندر سے سازشی کالی بھیڑوں کی چھانٹی کے لیے بیدار و کوشاں رہیں۔وکلاء تحریک میں وکلاء نے آئین اور قانون کی بالا دستی، عدلیہ کی خودمختاری کے لیے جانوں کے نذرانے پیش کرتے ہوئے جام شہادت نوش کر کے عدلیہ اور وکلاء کا وقار بلند کیا۔ ان شہداء کے خون کا تقاضا ہے کہ عدلیہ اور وکلاء اعلیٰ و ارفع مقاصد کے حصول کے لیے یک جان ہو آگے بڑھیں اور سازشی عناصر کے مکروہ عزائم کو ناکام بنائیں۔ احمد نواز تنولی ایڈووکیٹ بنام چیئرمین آزاد جموں و کشمیر کونسل وغیر (ز) 2016 SCR 960
error: Content is protected !!