- While interpreting the verse 179 of Sura Al-Baqara in Tafhim-ul-Quran Vol. 1, Syed Abul-Ala Modoodi, stated:- ” یہ ایک دوسری جاہلیت کی تردید ہے جو پہلے بھی بہت سے دماغوں میں موجود تھی اور آج بھی بکثرت پائی جاتی ہے۔ جسطرح اہل جاہلیت کا ایک گروہ انتقام کے پہلو میں افراط کی طرف چلا گیا اسی طرح ایک دوسرا گروہ عفو کے پہلو میں تفریط کی طرف گیا ہے اور اس نے سزائے موت کے خلاف اتنی تبلیغ کی ہے کہ بہت سے لوگ اسکو ایک نفرت انگیز چیز سمجھنے لگے ہیں اور دنیا کے متعدد ملکوں نے اسے بالکل منسوخ کر دیا ہے۔قران اسی پر اہل عقل کو مخاطب کر کےتنبیہ کرتا ہے کہ قصاص میں سوسائٹی کی زندگی ہے۔جو سوسائٹی انسانی جان کا احترام نہ کرنے والوں کی جان کو محترم ٹھہراتی ہے، وہ دراصل اپنی آستین میں سانپ پالتی ہے۔ تم ایک قاتل کی جان بچا کر بہت سے بے گناہ انسانوں کی جانیں خطرے میں ڈالتےہو۔” Whenever the sentence of Qisas will be awarded to any offender then it shall also create a deterrent in the society due to which no other person shall dare to commit the offence of murder — If in any case while taking the lenient view the sentence of Qisas is not enforced then the peace and tranquility of society shall be jeopardised and it shall be enjoinder of debacle of peaceful and harmonious atmosphere. Liaqat Hussain & another v. Ulfat Khan & another 2007 SCR 39 (H)
error: Content is protected !!