1. If appointment of Judge High Court is challenged by way of a  writ of quo-warranto what is in fact under challenge is the appointment of Judge which is not made by High Court or the Supreme Court. Therefore a writ of quo warranto can be issued against the appointment of a Judge. Ghulam Mustafa Moughal v. AJK Government 1993 SCR 131 (H)
  2. A writ of quo warranto is maintainable against a Judge which does not mean only a Shariat Court but a Judge of High court as well. Ghulam Mustafa Moughal  v. AJK Govt. 1993 SCR 131 (I)
  3. Laches — Principle of — to be seen in a peculiar circumstances of each case- second writ was filed about two months after the dismissal of his application for the restoration of the first writ petition. Gul Bahar  v.  Revising Authority 1993 SCR 327 (A)
  4. Question of jurisdiction is to be determined by the Income Tax Commissioner- No appeal provided against such order- if other conditions of writ are satisfied the writ would be competent. Deputy Collector Excise  v. Abdul Hamid 1993 SCR 363 (B)
  5. Question of law of public importance — Where a question of law of public importance of the highest order is involved the Courts of ultimate jurisdiction decide the appeals on merits — Particularly the point whether a writ of quo warranto bids in order to challenge the appointment of a Judge of the High Court is matter which cannot be left unresolved. Ghulam Mustafa Moughal v. AJK Government 1993 SCR 131 (A)
  6. Quo warranto- It is for the petitioner in the first instance to show that the non-petitioner is not holding the office under the authority of law- if he initially makes out his prima facie case, the burden of proof will shift to the opposite side but if the material facts are not pleaded by the petitioner on which he bases his claim or the same are not sufficient enough to make a prima facie case, it cannot be said that a rule nisi can be issued as a matter of routine. Kh. Noor-ul-Amin v. Sardar Muhammad AbdulQayyum Khan 1993 SCR 27 (C)
  7. Total absence of jurisdiction and exercise of jurisdiction illegally or in violation of- Distinction- writ lies when there is total absence of jurisdiction but if there is adequate remedy available then writ not lies. Muhammad Ismail  v. Income Tax Officer 1993 SCR 370 (A&B)
  8. Income Tax laws- If the contention that even a wrong order passed by the Income Tax Authorities is open to challenge by way of writ then it would amount to render the provision of Income Tax law as redundant. Muhammad Ismail  v. Income Tax Officer 1993 SCR 370 (C)
  9. Inordinate delay in filling of — No authority cited by the appellant that a writ of quo warranto is not maintainable if there is inordinate delay– One, the opposite side there is a large number of authorities that a writ of quo warranto cannot be dismissed on the ground of laches or because it was filed after the expiry of considerable time, reckoned from the date of accrual of cause of action. Azad Government  v. Sahibzada Ishaque Zafar 1994 SCR 323 (C)
  10. A citizen who is out of service can challenge the appointment of functionaries of Govt. by filing a writ of quo warranto —Writ of quo-warranto does not require the petitioner to be an aggrieved person. Sadaqat Hussain Shah & 4 others v. AJ&K Govt. & 3 others 1999 SCR 145 (A)
  11. حکم تقرری ججز صاحبان عدالت العالیہ ۔۔۔ اور لائے جانے زیر غور قبل از اجراء پروانہ منسوخی تقرری ۔۔۔ سائلان کی بدنیتی ۔۔۔ سازش ۔۔۔ خصوص عزائم و تاخیر۔۔۔ ۔سائل کا طرزعمل و محرکات کی تحقیق ۔۔۔۔ برائے غرض متاثر کرنے ادارہ کی پُرسکون حسب معمول کارکردگی۔۔۔اجراء پروانہ سے انکار۔۔۔۔۔   سائلان کا یہ استدلال ہے کے عرضی اجراء پروانہ استفسار کے لیے نہ تو محض تاخیر وجہ اخراج عرضی ہو سکتی ہے اور نہ ہی سائلان کا طرز عمل یا غیر متاثر ہونا۔ایسی حالت میں سائلان کا کی حثیت اطلاع دہندہ کی ہوتی ہے اور عدالت کی زمہ داری ہوتی ہے کہ ناجائز اور غیر قانونی قا بض سے منصب کو خالی کرائے۔اس نکتہ کا عدالت العالیہ نے ہر پہلو سے جائزہ لیا ہے اور فریقین نے بھی موقف آمدہ بر ریکارڈ پر پوری توجہ مرکوز کی ہے۔سائلان کا یہ استدلال اُن کی عرضی کی نوعیت کے اعتبار سے ہماری نظر میں درست معلوم نہیں ہوتا۔ اولاً سائلان کی عرضی محض اجراء پروانہ استفسار ہی نہیں بلکہ انہوں نے جو دادرسی ترجیحاً طلب کی ہے وہ اجراء پروانہ منسوخی ( Writ of Certiorari) حکم تقرری مصدرہ 2011۔2۔24 ہے۔ اس تناظر میں دفعہ 44 عبوری آئین ایکٹ، 1974ء کے تحت سائلان کا قانونی طور پر متاثرہ فرد ہونا، بروقت نیک نیتی سے رجوع عدالت ہونا آئینی لوازمات ہیں۔   دائری عرضی بعد از عرصہ ساڑھے چار سال بدوں وضاحت، کسی خصوصی حق  یا مفاد سائلان کے اُن کا متاثرہ فریق کی تعریف میں نہ آنا کوئی متنازعہ امر نہ ہے بلکہ ایک مسلمہ حقیقت ہے۔ تاہم اگر اس پہلو سے صرف نظر کر بھی دیا جائے تو تب بھی سائلان کا استدلال کہ عرضی پروانہ استفسار کے لیے سائلان کا طرز عمل اور تاخیر قابل غور امور نہ ہیں، قانون اور برصغیر کی اعلیٰ عدالتوں کے وضع کردہ اصولوں سے مطابقت نہ رکھتا ہے۔ عرضی اجراء پروانہ استفسار کے معاملہ میں جب مسئولان  کی جانب سے سائلان کی بدنیتی، سازش، مخصوص عزائم اور تاخیر سے دائری کا موقف لیا جائے تو پھر عدالت پر لازم ہو جاتا ھے کہ وہ  ان پہلوؤں کو زیر غور لائے۔ یہ اصول کوئی انوکھا اور نیا نہیں بلکہ عرصہ دراز سے اپنایا جا رہا ہے۔ اس نقطہ قانونی پر پاکستان و آزاد کشمیر عدلیہ میں اتفاق رائے پایا جاتا ہے۔ اس ضمن میں متعدد قانونی نظائر میں سے ایک نظیر مطبوعہ فیصلہ عنوانی” عزیزالرحمٰن چوہدری بنام محمد نصیرالدین وغیرہ” ( پی۔ایل۔ڈی 1965 ایس۔سی صفحہ 236) ہے جس میں اجراء پروانہ استفسار کے حوالے سے دو اہم اصول وضع کیے گئے ہیں۔ ایک یہ کہ عدالت کا اختیار ہے کہ وہ سائل کے طرز عمل اور محرکات نسبت دائری عرضی کی تحقیق کرے اور دوسرا یہ کہ اگر ایسی عرضی ایک ادارے کی پُرسکون حسب معمول کارگزاری کو متاثر کرنے کے لیے ہو تو اُس کو منظور کرنے سے انکار کر دے۔ احمد نواز تنولی ایڈووکیٹ بنام چیئرمین آزاد جموں و کشمیر کونسل وغیرہ، (ٹ) 2016 SCR 960 PLD 1965 SC 236 ref.
  12. ادارے کی اس پُرامن کارگزاری کو تہہ و بالا کرنے کے لیے ایسی عرضی ہا اجراء پروانہ استفسار کا استعمال درست قرار نہیں دیا جا سکتا۔ احمد نواز تنولی ایڈووکیٹ بنام چیئرمین آزاد جموں و کشمیر کونسل وغیرہ، (ث) 2016 SCR 960
  13. اجراء پروانہ استفسار— نیک نیتی/کردار و طرزعمل سائلان ۔۔۔۔ متعلقہ و قابل تحقیق قبل اجراء پروانہ ۔۔۔۔ مشکوک کردار و بدنیتی کی صورت میں اجراء کی حوصلہ شکنی۔۔۔ اصول ۔۔۔۔  جہاں تک سائلان کے طرز عمل، محرکات اور نیت کا تعلق ہے، اگرچہ دلوں اور نیتوں کا حال اللہ تعالی کو ہی معلوم ہے تاہم دنیاوی معاملات میں ان پہلووں کو جانچنے کے لیے ایک فرد کا طرز عمل ہی اہم بیناد فراہم کرتا ہے۔ دلائل فریقین کے علاوہ طرز عمل کے بارہ میں عدالتی استفسار پر سردار افتخار احمد (سائل) نے بتایا کہ وہ عرصہ بارہ سال سے عدالت العالیہ کے وکیل ہیں اور 14۔2013 میں بار ایسوسی ایشن کے صدر بھی رہے، سائل احمد نواز تنولی نے بھی بتایا کہ وہ عرصہ پانچ سال سے عدالت العالیہ کا وکیل ہے۔ دنوں مسئولان 7 و 8 کی عدالت میں پیش ہوتے رہےاور دونوں نے عرضی ہذا دائری سے قبل کسی بھی سطح پر یا کسی بھی ادارہ میں مسئولان کے بارے میں نہ تو تحفظآت کا اظہار کیا اور نہ ہی کوئی شکایت کی۔یہ امر بھی اظہر من الشمس ہے کہ مسئولان 7 و 8 مجلس عام میں حلف اٹھانے کے بعد سے اپنے فرائض سرانجام دے رہے ہیں۔ سائلان کی اپنی بیان کردہ وجوھات کو ہی اگر زیر غور لایا جائے تو انکے بقول سارے معاملے کی علمیت اُن کو بار کونسل کی قرار داد منظور ہونے پر ہوئی۔ بار کونسل کی قرارداد کی نقل پیش کردہ سائلان سے عیاں ہوتا ہے کہ یہ شریعت کورٹ میں ججز کی تقرری کے چند روز بعد منظور ہوئی جس کی اشاعت بھی کی گئی۔ اس قرارداد میں مسئولان 7و8 کی تقرری کا بالصراحت ذکر نہ ہے جیسا کہ شریعت کورٹ ججز کی تقرری کے حوالے سے موجود ہے۔ جس ترتیب سے واقعات وقوع پزیر ہوئے اُس کے مطابق شریعت کورٹ ججز کی تقرری کے فوراً بعد ضلعی انجمن ھا و آزاد جموں و کشمیر کونسل نے احتجاج کیا، قرارداد منظور کی اور چند دنوں بعد ہی عرضی بھی عدالت العالیہ میں دائر کر دی گئی جس کی کُھلی عدالت میں سماعت ہوئی۔ عرضی منظور کرتے ہوئے شریعت کورٹ ججز کو بروئے فیصلہ مصدرہ 2015۔8۔6 (جو کہ مسئول نمبر 7 نے تحریر کیا) اپنے منصبوں سے سبکدوش کردیا گیا۔ سائلان نے روبرو عدالت یہ بھی اعتراف کیا کہ قبل ازیں نہ تو انہوں نے ایسی کوئی عرضی دائر کی اور نہ ہی شریعت کورٹ ججز والے مقدمہ، جس کے حوالے سے بار کونسل نے احتجاج کیا اور قرارداد منظور کی، میں کوئی کردار ادا کیا۔اسطرح سائلان کا دعویٰ کہ وہ نیک نیتی سے عدلیہ کی آزادی، قانون کی عملداری اور تحفظ کے لیے آگے آئے ہیں، اُن کے طرز عمل سے مطابقت نہ رکھتا ہے۔اس طرح سے بھی اگر صرف نظر کر لیا جائے تو اس کے باوجود بار کونسل کی قرارداد کی تاریخ کے بعد بھی چھ ماہ تک خاموش رہنا اور ماسوائے ایک مکتوب محررہ 2015۔10۔15، کوئی ایک بھی ثبوت ریکارڈ پر نہ لانا،حتٰی کہ بیان حلفی میں بھی وضاحت نہ کرنا کہ انہوں نے معاملہ کی علمیت کے بعد کیا اقدمات اٹھائے،سائلان کے طرز عمل کا عکاس ہے۔فیصلہ ججز شریعت کورٹ مورخہ 2015۔8۔6 کے صادر ہونے کے بعد عرضی دائر کرنا حالات اور قرآئین و شواہد کے تناظر میں سائلان کے کردار کو مشکوک بناتا ہے۔خصوصی طور پر جبکہ مسئولان نے موقف لیا کہ عرضی ہذا شریعت کورٹ ججز فیصلے کا ردعمل ہے، حالات و واقعات کے تناظرمیں مسئولان کے اس عذر کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔    مسئولان نے عرضی میں شامل یکے از سائلان سردار محمد خورشید خان کے متعلق موقف اختیار کیا ہے کہ وہ فیصلہ ججز شریعت کورٹ محررہ 2015۔8۔6 کی روُ سے سبکدوش ہونے والے ایک جج سردار شہزاد احمد خان کے شریک چمبرز رہے۔ تائید میں بیان حلفی بھی شامل کیا جس کی تردید جوابی بیان حلفی سے نہ کی گئی ہے۔ اس طرح مسئولان کا بیان حلفی بلاتردید ریکارڈ پر پایا جاتا ہے اور سائلان کے اپنے دلائل کے مطابق ایسا بیان حلفی حالات و واقعات کے مطابق قابل انحصار ہے۔عدالت ہا برصغیر اس امر پر متفق ہیں کہ ایسے حالات میں عرضی اجراء پروانہ استفسار کو محض معمول میں بے مہابہ جاری نہیں کر دینا چاہیے بلکہ سائلان کے طرز عمل اور نیک نیتی کو بہر طور مدنظر رکھنا چاہیے۔ اس حوالے سے یہ اہم اصول بھی وضع کیا گیا ہے کہ ایسے رجحان کی بیخ کنی اور حوصلہ شکنی کرنی چاہیے احمد نواز تنولی ایڈووکیٹ بنام چیئرمین آزاد جموں و کشمیر کونسل وغیرہ، (ج) 2016 SCR 960 سورۃ یوسف آیات 25 تا 28 

204 PLC (C.S) 1328,  2004 SCMR 1299  and  PLD 1993 SC (AJK) 12 ref

error: Content is protected !!